پیرس9اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)فرانس نے باسک باغیوں کی طرف سے ہتھیارپھینکنے کویک اہم پیش رفت قراردیاہے۔ شمالی اسپین اورجنوب مشرقی فرانس میں سرگرم ان باغیوں کی طرف سے امن عمل کاحصہ بننے سے یورپ میں آخری معلوم مسلح باغی تحریک بھی ختم ہو جائے گی۔خبررساں ادارے اے ایف پی نے فرانسیسی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ باسک ریجن میں فعال علیحدگی پسند گروہETA کی طرف سے اپنابچاکچااسلحہ بھی حکومت کے حوالے کر دینا ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے صحافیوں کو بتایاکہ ’ان باغیوں کا غیر مسلح ہونا بے شک ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے‘۔ انہوں نے اس تناظر میں آج کے دن کوبھی انتہائی اہم قرار دیا۔دوسری طرف ہسپانوی وزیر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ باسک باغیوں کو ماضی میں کیے گئے تشددپرمعافی مانگناچاہیے اوراس باغی تحریک کو تحلیل کر دینا چاہیے۔ ماریانو راخوائے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزیدکہاگیاہے کہ اس تناظر میں ان باغیوں کو کسی رعایت کی توقع بھی نہیں کرنا چاہیے۔نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق باسک کے عسکری گروپ ای ٹی اے نے اپنے اسلحے کے ذخیروں کے مقامات کی تفصیلات فرانسیسی حکومت کوفراہم کردی ہیں۔ فرانسیسی حکومت اب ان ذخیروں سے اسلحے کو جمع کر کے تلف کرنے کا سلسلہ شروع کرے گی۔ اسپین میں باسک تحریک کو شروع ہوئے تینتالیس برس ہو گئے ہیں۔ اس دوران پرتشدد واقعات کے نتیجے میں کم از کم آٹھ سو افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔باسک ریجن میں فعال ETA نے سن دو ہزار گیارہ میں سیز فائر معاہدے کا اعلان کیا تھا تاہم اس نے ہتھیار نہیں پھینکے تھے۔ یہ گروپ پچاس برس قبل ہسپانوی آمر جنرل فرانکو کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد شمالی اسپین اور جنوب مشرقی فرانس کے کچھ علاقوں میں ایک آزاد باسک ریاست کا قیام تھا۔ یورپی یونین نے اسے دہشت گردگروہوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔اسپین اور فرانس کی حکومتیں متعدد مرتبہ باسک باغیوں سے مذاکرات کرنے سے انکار کر چکی ہیں۔ میڈرڈ اور پیرس کا مطالبہ تھا کہ یہ باغی غیر مشروط طو پر ہتھیار ڈال دیں۔ باسک باغیوں نے سن دوہزارگیارہ میں اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا تاہم ان اعلانات کے باوجود انہوں نے اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے نہیں کیے تھے۔ تاہم ہفتے کے دن ہونے والی اس پیش رفت کے نتیجے میں یورپ میں آخری معلوم مسلح باغی تحریک بھی ختم ہو جائے گی۔